پاکستان ہندو کونسل نے قراردادِ مطالبات متفقہ طور پر منظور کر لی Posted on October 14, 2014 585 Share on Facebook Share on Twitter Share on Google+ Share on Reddit Share on Pinterest Share on Linkedin Share on Tumblr اسلام آباد / کراچی (14اکتوبر2014ء): پاکستان ہندوکونسل نے حکومتِ پاکستان اور تمام سیاسی جماعتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جمہوری طرز پر غیرمسلم اقلیتی شہریوں کو اپنے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کرنے کیلئے دہرے ووٹ کا حق دیا جائے اور ا س سلسلے میں آئین میں ضروری ترامیم اور پانچ فیصد ہندو آبادی کے بلحاظ مخصوص نشستوں میں پانچ فیصد اضافہ وقت کی اشد ضرورت ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ہندو کونسل کی جنرل باڈی اجلاس میں ہندو کمیونٹی کے نمائندوں بشمول ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی، چیلا رام کیلوانی اور ڈاکٹر دیپک کمار بھاگ چندانی کی کثیر تعداد نے متفقہ طور پر قراردادِ مطالبات منظور کرلی ہے جس میں حکومتِ پاکستان پر متروکہ املاک بورڈ کا سربراہ ہندو شہری کو لگانے کے ساتھ بورڈ ممبرز میں ہر صوبے سے دو دو ہندو نمائندوں کی شمولیت کی تلقین کی گئی ہے۔قرارداد میں وفاقی و سندھ حکومت سے ہندو کمیونٹی کیلئے سرکاری نوکریوں میں پانچ فیصد کوٹہ مختص کرنے، سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت اقلیتوں کو تحفظ کی فراہمی اور کم عمری کی شادی کے روک تھام کے بل 2013کے فوری نفاذ ، کراچی ہندو جم خانے کی مقامی ہندو برادری کو حوالگی اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کی جانب سے حالیہ اعلان کردہ کمیٹی برائے اقلیتی امور میں پاکستان ہندو کونسل کی نمائندگی یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس موقع پر شرکاء نے ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو ہندو برادری کی جانب سے متفقہ طور پر منظورکردہ قراردادِ مطالبات پیش کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔